جاسوس کے ساتھ عدل
بخاری شریف میں مرقوم ہے جس کے راوی حضرت ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ ایک مقام پر فروش تھے کہ مشرکوں کا ایک جاسوس امام النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا۔ اسے دیکھ کر امام النبیصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کسی خاص کام کے لئے آیا ہے۔ وہ جاسوس تھوڑی دیر کے بعد کھسک گیا تو امام النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کو میرے پاس لاؤ اور مار ڈالو ۔ نہیں لوگ اس کی طرف بڑھے ۔ حضرت ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میرے
والد نے گھوڑا بڑھا کر اس کو جالیا اور اس کی اونٹنی کی مہار پکڑلیا سے گرفتار کر کے قتل کر دیا اور اس کا سامان لے کر امام النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ۔ آپ ﷺ خوش ہوئے اور اس کا سامان بطور مال غنیمت حضرت ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرما دیا۔ بخاری شریف

